Mehreen Ilam Ke Mutabiq Khana Pakane Ke Tarike - Recipes - Cooking Methods in Urdu، اہرین علم صحت کے مطابق کھانا پکانے کے طریقے Khana Pakane Ke Tarike، Cooking Methods، types of cooking methods، Pakistani cooking Recipes in Urdu، Science Food and Health، Mehreen Science، Food and Health Science، casein side effects، casein in milk

ماہرین علم صحت کے مطابق کھانا پکانے کے جو طریقے ہیں وہ درج ذیل ہیں
ماہرین علم صحت کے مطابق کھانا پکانے کے طریقے


ہمارے ہاں جس طریقے سے کھانا پکایا جاتا ہے اس سے اکثر وٹامن اور دیگر صحت بخش اجزا ضائع ہو جاتے ہیں۔ کھانا ہمیشہ دھیمی آنچ پر پکانا چایئے
تیز آنچ پر پکی ہوئی چیز کی غذائیت میں فرق آجاتا ہے۔
ساگ یا چاول ابال کر ان کا پانی نہ پھینکئے۔ اتنا پانی ڈالنے کی پھینکنے کی ضرورت نہ آئے۔ گوشت پکانے کا صیح طریقہ ہے کہ اس ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیجئے۔ اس طرح اس کے پاہر البیومن جم کا اس کے گرد ایک غلاف
سا بنا دے گا۔ اور اس کے اندر کے پرٹین اور نمک وغیرہ پانی میں گھل کر باہر نکلنے نہ پا ئیں گے۔
Mehreen Ilam Ke Mutabiq Khana Pakane Ke Tarike - Recipes - Cooking Methods in Urdu

بھوننے سے غذا دیر ہضم ہوجاتی ہے اور اس کے وٹامن وغیرہ بھی جل جاتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکے غذا کو بھوننے نہیں۔ بھاپ سے پکانا سب سے اچھا ہے۔
:فی کس یومیہ خوراک
ماہرین علم صحت نے اوسط درجے کے آدمی کے لیے روزانہ خوراک کے مختلف مینو رکئے ہیں۔ ہمارے ملک کے مندرجہ ذیل مینو بہت مناسب ہے۔
آٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٦چھٹانک
چاول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٤چھٹانک
گوشت۔۔۔۔۔۔۔۔٣چھٹانک
دودھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔٨چھٹانک
سبزی۔۔۔۔۔۔۔۔٤چھٹانک
دال۔۔۔۔۔۔۔۔۔١چھٹانک
گھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔١.٥چھٹانک

اس کے علاوہ تازہ پھل جس قدر کھا سکیں کھائیں جو چاول کھانے کے عادی نہیں ہیں۔ وہ چاول کے بجائے آٹے کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اور جو صرف چاول کھاتے ہیں وہ آٹے کے
بجائے اسی مقدار میں یا ذرا زیادہ چاول استعمال کر سکتے ہیں۔ بچوں کے لیے دودھ پینا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے غذائی اجزا
تقریباََ اتنی ہی مقدارمیں ہوتے ہیں جتنی مقدار میں انہیں کسی مکمل خوراک میں ہونا چاہئے۔

مفیدمشربات

مشروبات کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم میں الکحل نہیں پائی جاتی۔ جیسے سوڈا، شربت، لسی، سکخین، دودھ، چائے، قہوہ، کوکو وغیرہ، دوسری قسم میں الکحل ان کا اجزا ہے۔

سوڈاواٹر

یہ ضروری نہیں کہ اس قسم کہ پانی میں سوڈا ضرور موجود ہو۔ یہ معمولی پانی ہوتا ہے۔ جس میں کاربانک ایسڈ شامل کردیا جاتاہے اس کے علاوہ اس میں کچھ نمک
بھی ہوتے ہیں۔ سوڈا کے بعض مشروبات میں کسی پھل کا جوس اور ایسنس بھی ملایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سوڈاواٹر میں کسی پھل کا جوس بھی شامل ہوتو اس میں وٹامن اور معدنی نمک بھی موجود ہوں گے
جو اس پھل میں پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ غذائی اعتبار سے صحت کیلے مفید ہوا۔

شربت

سوڈے کے علاوہ شربت بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ چونکہ ان میں کھانڈ کے ساتھ پھلوں کارس بھی ہوتا ہے اس لئے ان میں بھی کچھ غذائیت ہوتی ہے خصوصاََ گرمی کے موسم میں
ان کا استعمال فرخت بخشتا ہے۔

سکنجبین

تازہ لیموں کا رس اور نمک پانی میں ملانے سے مشروب بنتا ہے اسے سکنجبین کہتے ہیں۔ یہ بہت فرخت افزا اور مفید چیز ہے۔

چائے

چائے میں کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں۔ ٹینن اور تھین، ٹینن ایک ایسا کمیائی مادہ ہے جو خشکی اور قبض پیدا کرتا ہے۔ یہ پانی میں آہستہ آہستہ حل ہوتا ہے۔ اگر چائے کی پتی کو زیادہ دیر تک
پانی جوش دیا جائے تو پانی میں ٹینن بہت مقدار میں حل ہو جاتا ہے۔ اس لئے چائے کو ذیادہ دیر تک نہیں اُبالنا چاہئے۔ ٹینن معدے کے استر کی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور غذا کے پروٹین کوسخت
بناتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ قابل ہضم ہوجاتی ہے۔

تھین

اعصاب کو تحریک دیتا ہے اور چائے کا محرک ہونا اس کی وجہ سے ہے۔ اس کے علاوہ چائے میں ایک قسم کا تیل بھی ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے مہک پیدا ہوجاتی ہے۔
بلحاظ غذاچائے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ چونک اعصاب کیلے محرک ہے جس کی وجہ سے تھکان کا احساس کم ہوجاتا ہے اور نیند بھی نہیں آتی۔ اس لئے دماغی کام کرنے والے اسے اچھا سمجھتے ہیں
لیکن اس کے استعمال میںاعتدال سے کام لینا چاہئے دن بھر میں زیادہ سے زیادہ دو تین پیالے اور وہ بھی تازہ۔

کافی

کافی کے بھی دو بڑے اجزا ہیں۔ کیفین اور ٹینن۔  کیفین بھی ٹینن سے ملتا ایک مادہ ہے لکین یہ اتنا نقصان دہ نہیں جتنا کہ چائے۔ یہ چائے سےزیادہ محرک ہے اسے کثرت سے
استعمال کرنے سے اعصاب دل اور آلات انہضام کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہم محض چائے کافی کے سہارے زندگی کی دوڑدھوپ میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس لئے ان چیزون کے استعمال
میں اعتدال سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔

کوکو

اس میں پرٹین ١٦ ٖفیصد ہوتا ہے۔ اس لئے یہ ایک غذائی حثییت رکھتا ہے اس کے علاوہ اس میں ایک ماد تھیو برومن بھی ہوتا ہے جو اعصاب کو تحرک اور تقویت دیتا ہے۔
یہ بھی چونکہ محرک ہے اس لیے اعتدال سے استعمال کرنا چاہئے۔

لسی

اس کا گرمی کے موسم میں ہارے ملک میں بہت رواج ہے۔ یہ بڑا فرخت بخش اور صحت بخش مشروب ہے۔ اس سے طاقت پیدا ہوتی ہے اور درازی عمر کا باعث ہوتی ہے لیکن چونکہ
طبیعت میں سستی پیدا کرتی ہے اور نیند لاتی ہے۔ اس لئے دماغی کام کرنے والے اسے پسند نہیں کرتے۔

دودھ

صرف یہی ایک ایسی چیز ہے جسے ایک حدتک مکمل خوراک کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام اجزا پائے جاتے ہیں جو جسمانی نشونما کے لیے ضروری ہیں۔ بیماری کی حالت میں مریض
کے لئے اس سے بہتر اور کوئی غذا نہیں۔
کریم کے علاوہ دودھ میں پروٹین، معدنی نمک اور پانی بھی شامل ہوتا ہے۔ اس کا ایک کیمیائی مادہ کیسین ہے جو کہ بہت مقوی سمجھا جاتا ہے مکھن بھی دودھ سے نکلتا ہے۔ اس میں ٨٠
فیصدی چکنائی ١ فیصدی پروٹین ایک فیصدی نمک اور باقی ١٣ فیصدی پانی ہوتا ہے۔ مکھن تمام چکنائیوں میں سب سے زیادہ ذود ہضم ہے۔ اس لئے چھوٹے بچوں اور مریضوں کے لئے بہت اچھی خوراک ہے۔
دہی اور پنیر بھی دودھ ہی کی مصنوعات ہیں۔ پینرمیں چکنائی اور پروٹین زیادہ ہوتے ہیں۔ غذائیت کے اعتبار سے یہ گوشت کا بدل سمجھا جاتا ہے لیکن ذود ہضم ہے۔ اسے چبا چبا کر کھانا چاہئے۔





Khana Pakane Ke Tarike
Cooking Methods
types of cooking methods
Pakistani cooking Recipes in Urdu
Science Food and Health
Mehreen Science
Food and Health Science
casein side effects
casein in milk

Share To:

Health Lab

Post A Comment:

0 comments so far,add yours