Aurat Par Qudrat Hasal Karne Ke Liye Ak Qurani Amal | Biwi Ko Kabu Karne Ka Wazifa, biwi ko farmabardar banane ka wazifa, wazifa husband wife love, wazifa for husband to listen to wife, Biwi Ko Kabu Karne K Dua Wazifa and Tarika, Apni Biwi Ko Kabu Ya Vash Me Karne Ka Wazifa, Biwi Ko Control Mein Karne Ka Quranic Wazifa.عورت پر قدرت حاصل کرنے کے لیے ایک قرآنی عم
عورت پر قدرت حاصل کرنے کے لیے ایک قرآنی عمل
اگر کوئی عورت یا آپ کی بیوی آپ کے کنٹرول سے باہر اور وہ آپ کے قابو نہیں آ رہی تو اس کو رائے رست پر لانے کیلے ایک بہترین قرآنی عمل ہے جس پر آپ اپنی قدرت حاصل کر سکتے ہیں صرف ایک قرآنی آیت پڑ کریہ ایک بہترین عمل ۔ ہے
اگر کوئی عورت یا آپ کی بیوی آپ کے کنٹرول سے باہر اور وہ آپ کے قابو نہیں آ رہی تو اس کو رائے رست پر لانے کیلے ایک بہترین قرآنی عمل ہے جس پر آپ اپنی قدرت حاصل کر سکتے ہیں صرف ایک قرآنی آیت پڑ کریہ ایک بہترین عمل ۔ ہے
از- اعمال قرآنی تصنیف حضرت تھانوی ؒ ۔۔ حضرت امام حسن بصری ؒ سے کسی نے ذکر کیا کہ فلاں شخص نے نکاح کیا مگر عورت پر قادر نہیں ہو سکا تو آپ نے دو بیضہ مرٖغ(انڈے) جوش دئیے ہوئے منگوائے اور
ان کا چھلکا اتار کر ایک پر آیت لکھی۔
قرآن و حدیث کی برکات و اثرات اپنی جگہ پر مُسلم ہیں مگر ان سے فائدہ حاصل کرنے کےلیے ان پر یقین کامل ضروری ہے۔ اگر اس میں کمی ہوگی تو پھر کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
ایک محدث کے صاحبزادے نے ایک حدیث میں پڑھا کہ کھبنی کا عرق آنکھ میں ڈالنے سے آنکھ کی تکلیف دور ہوجاتی ہے۔ اُن کے غلام کی آنکھ میں کچھ تکلیف تھی پس بطور آزمائش
ٖغلام کی آنکھ میں کھبنی کا عرق ڈالا تو اُس کی تکلیف اور بڑ گی۔ ان صاحبزادے نے اپنے والد ( محدث صاحب) سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کس نیت سے عرق ڈالا تھا۔
جواب دیا کہ حدیث کی بات کو آزمانے کے لیے۔ تو ؐمحدث صاحب نےفرمایا کہ حضورﷺ کی حدیث پر تجھ کو اعتماد نہ تھا یہ اس کی سزا ہے۔ چنایچہ صاحبزادے نے توبہ کی اور صیح نیت کے ساتھ پھر جو عرق
ڈالا تو فائدہ ہوا۔
بعض لوگ ادائل عمر کی غلط کاریوں کی بناء پر اپنے آپ کو فریضہ زوجیت کی ادائیگی کے قابل نہیں سمجھتے اور شادی کرنے سے گریز کرتے ہیں مگر گھر والوں کے اصرار پر شادی کرنے کیلے رضا مند
ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی کمزوری کے علاج کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ معالض بھی ان کی اس ذہنی اور نفسیاتی یماری کو نہ سمجھ کر گرم اور مہیج دوایئں اور طلا استعمال کراکے ان کو اطمینان دلا دیتے ہیں کے
پس پہنچتے ہیں تو یہ ذران کو لے ڈوبتا ہے۔ حالانکہ وہ وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ دراصل یہ اس قوت خیال کا اثر ہوتا ہے۔
جو ان کے دماغ پر مسلط ہو کر ان کی اہلیت کو سلب کردیتا ہے اور مایوسی اری کر دیتا ہے اسیے لوگوں کو اپنے بُرے خیالات پر قابو حاصل کر لینا چاہیے اور اس مرحلہ پر پسینے پسینے ہوجاتے ہیں اور دُلہن
کےکمرہ سے نکل آنے کے بجائے ہمت قائم رکھنا چاہیے۔ اور اُنس پیدا کرنے کی باتوں میں مشغول ہوجانا یاہیے۔ اپنی نئی شیک حیات سے آئندہ زندگی کو گزارنے کیلے اس کی عادات و مرگوبات معلوم کرنے
اور اپنی پسندو نا پسند چیزوں سے اس کو واقف کرانے کی باتوں میں وقت گزار دینا چاہیے۔ اس طرح ہمت کے ساتھ جمے رہیں تو وہ قوت جو عارضی طور پر ڈرے مغلوب ہو گی تھی۔ پھر غالب آجاتی ہے اور مراد بر آتی ہے۔
بس اس کا خیال رہے کہ چہرے بشرے سے اپنی ناکامی کا اظہار ذرا بھی نہ ہونے پائے۔ اگلے دن کسی طبیب سے مشورہ کرلیں انشاء اللہ قوت بحال ہوجائے گی۔
ٖغلام کی آنکھ میں کھبنی کا عرق ڈالا تو اُس کی تکلیف اور بڑ گی۔ ان صاحبزادے نے اپنے والد ( محدث صاحب) سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کس نیت سے عرق ڈالا تھا۔
جواب دیا کہ حدیث کی بات کو آزمانے کے لیے۔ تو ؐمحدث صاحب نےفرمایا کہ حضورﷺ کی حدیث پر تجھ کو اعتماد نہ تھا یہ اس کی سزا ہے۔ چنایچہ صاحبزادے نے توبہ کی اور صیح نیت کے ساتھ پھر جو عرق
ڈالا تو فائدہ ہوا۔
قوت باہ پر خیالات کا اثر
بعض لوگ ادائل عمر کی غلط کاریوں کی بناء پر اپنے آپ کو فریضہ زوجیت کی ادائیگی کے قابل نہیں سمجھتے اور شادی کرنے سے گریز کرتے ہیں مگر گھر والوں کے اصرار پر شادی کرنے کیلے رضا مند
ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی کمزوری کے علاج کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ معالض بھی ان کی اس ذہنی اور نفسیاتی یماری کو نہ سمجھ کر گرم اور مہیج دوایئں اور طلا استعمال کراکے ان کو اطمینان دلا دیتے ہیں کے
پس پہنچتے ہیں تو یہ ذران کو لے ڈوبتا ہے۔ حالانکہ وہ وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ دراصل یہ اس قوت خیال کا اثر ہوتا ہے۔
جو ان کے دماغ پر مسلط ہو کر ان کی اہلیت کو سلب کردیتا ہے اور مایوسی اری کر دیتا ہے اسیے لوگوں کو اپنے بُرے خیالات پر قابو حاصل کر لینا چاہیے اور اس مرحلہ پر پسینے پسینے ہوجاتے ہیں اور دُلہن
کےکمرہ سے نکل آنے کے بجائے ہمت قائم رکھنا چاہیے۔ اور اُنس پیدا کرنے کی باتوں میں مشغول ہوجانا یاہیے۔ اپنی نئی شیک حیات سے آئندہ زندگی کو گزارنے کیلے اس کی عادات و مرگوبات معلوم کرنے
اور اپنی پسندو نا پسند چیزوں سے اس کو واقف کرانے کی باتوں میں وقت گزار دینا چاہیے۔ اس طرح ہمت کے ساتھ جمے رہیں تو وہ قوت جو عارضی طور پر ڈرے مغلوب ہو گی تھی۔ پھر غالب آجاتی ہے اور مراد بر آتی ہے۔
بس اس کا خیال رہے کہ چہرے بشرے سے اپنی ناکامی کا اظہار ذرا بھی نہ ہونے پائے۔ اگلے دن کسی طبیب سے مشورہ کرلیں انشاء اللہ قوت بحال ہوجائے گی۔


Post A Comment:
0 comments so far,add yours