Latest Post

Etiquettes

Women Disease

Healthcare Tips

   تپ دق كیا ہے؟ اوراس کی علامات کون کون سی ہیں، اور اس کا علاج کسی طرح کیا جاتا ہے اور اس کا علاج نہ کروانے سے کیا نقصان ہے تپ دق کے بارے میں انسان کسی طرح جان سکتا ہے کہ مجھے ہے۔ اس کا پرہیز اور علاج۔ دوستو اس آرٹیکل میں مکمل آگاہی دی گی ہے۔     
Tapdaq Kia Hai? Or Is Ki Alamat Kia Hain Or Is Ka ilaj- Tuberculosis Treatment in Urdu


:Trbeerculosis تپ دق 

یہ ایک نہایت خوفناک مرض ہے۔ اس کا سبب ایک خاص قسم کےجراثیم ہوتے ہیں۔ جوٹیوبرکل باسیلی کہلاتے ہیں۔ یہ جراثیم جسم کے کسی حصے پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔
لیکن ان کاحملہ بالعموم پیپھڑوں پر ہوتا ہے اور اس حالت میں اس مرض کوسل یا  کنوسمپٹیش  کہتے ہیں۔
جب تپ دق کا مریض کسی جگہ پر کھانستا ہےتو ہوا میں تپ دق کے جراثیم شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی ہو میں تندرست آدمی کے سانس لینے سے یہی جراثیم اس کے پیپھڑوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔
اس تپ دق پیداکردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب تپ دق کا مریض زمین پر بلغم وغیرہ تھوکتا ہے تو یہ بلغم خشک ہوجاتا ہے اور اس کے جراثیم ریت میں مل کر ہوا میں اُڑنے لگتے ہیں۔ گردو غبار کی جگہ میں
سانس لینے سے بھی تپ دق کے جراثیم جسم میں شامل ہوجاتے ہیں۔
یہ خیال صحیح نہیں ہے تپ دق ایک خاندانی مرض ہے لیکن البتہ یہ ضروری ہے کہ جن بچوں کے والدین تپ دق کے مرض میں مبتلا ہوں وہ پیدائشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے دوسرے
عام تندرست بچوں کی نسبت اس مرض کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔

:علامات

اس مرض کی علامتیں بہت آہستہ آہستہ نمودار ہوتی ہے اور مرض کا حملہ ہونے کے کئی کئی مہینے بعد تک مریض کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ بیمار ہے۔ سب سے پہلے مریض کو خشک کھانسی ہوتی ہے لیکن
کچھ عرصہ بعد زردرنگ کا تھوڑا بلغم بھی خارج ہونے لگتا ہے اور بعض اوقات اس بلغم کے ساتھ خفیف مقدار میں خون بھی شامل ہوتا ہے۔ 
اس کے علاوہ مریض ہر وقت تھکان محسوس کرتا ہے۔ شام کے وقت مریض کا ہلکا ہلکا بخار ہونے لگتا ہے۔ بھوک لگنا بند ہوجاتی ہے اور وزن بتدریج کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص علامت یہ بھی ہے
کہ کرہ مریض کے کپڑے اور بستر کی چادر تر ہوجاتی ہے۔

وہ اسباب جو اس مرض کے پیدا کرنے میں ممد ہوتے ہیں

١۔ بہت سے آدمیوں کا ایک مکان میں رہنا۔
٢۔ ناقص ہوا۔
٣۔ تنگ و تاریک اور مرطون مکان کی رہائش۔
٤۔ ناقص غذا۔
٥۔ غذاکا کم مقدار میں ملنا۔
٦َ۔ سینہ کا کمزور ہونا۔
٧۔ ایسے ماحول میں کام کرنا جہاں گردو غبار ہو۔
٨۔ کام کی زیادتی، پریشانی اور تفکرات۔
٩۔ متعدی بیماری کے بعد کی کمزوری۔
١٠۔ نشہ آور اشیاء کا استعمال۔
١١۔ چھوڑی عمر میں شاددی کا ہونا۔
١٢۔ غربت اور جہالت۔
یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کر لیں کہ تپ دق کا مرض صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ تپ دق کے جراثیم جسم میں داخل ہوجائیں۔
اوپر بیان کئے ہو ئے اسباب ہماری قدرتی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ جس سے ہم پر مرض آسانی سے غلبہ پا جاتا ہے۔
زندگی میں ہزاروں مرتبہ ہوا میں سانس لیتے ہیں۔ جس میں تپ دق کے جراثیم شامل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم کبھی بیمار نہیں ہوتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جسم تندرست جسم میں اس مقدار
مدافعت کی قوت ہوتی ہے کہ تپ دق کے یہ جراثیم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، لیکن اس کے بر عکس کمزور جسم والے لوگوں میں چونکہ یہ قوت مدافعت بہت کم ہوتی ہے۔ اس لئے وہ آسانی سے اس مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اس لئے یہ نہاہت بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے جسم میں قوت مدافعت بڑھائیں۔

پرہیز اور علاج

١۔ جس جگہ تپ دق  کے جراثیم ہوں وہاں نہ جاؤ۔
٢۔ دھوپ اور تازہ ہوا میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارو۔
٣۔ زود ہضم اور مقوی غذا کھاؤ۔
٤۔ صحت اور صفائی کے اصولوں پر عمل کرو۔
٥۔ ہر وقت خوش و خرم رہنے کی کوشش کرو۔
٦۔ مرض کی صوت میں فوراََ علاج شروع کرو۔
مندرجہ ذیل بالاہدایات پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف اس موزی مرض کے حملہ سے بچ سکتے ہیں۔ بلکہ اگر خدانخواستہ کسی کو یہ مرض ہو بھی جائے تو مرض کا قلع قمع کرنے کے لیے بھی ان
ہدایات پر عمل کرنا کافی ہے۔
٨۔ تپ دق کے مرض کو خاص طور پر دو باتوں کا خیال رکھنا ںنہایت ضروری ہے۔

آرام

دق کی علامتوں کے ظاہر ہونے پر مریض کے لیے مکمل آرام نہایت ضروری ہے۔ ایسے شخص کو ہر وقت بستر پر لیٹا رہنا چاہئے۔ ہر قسم کے کام سے پرہیز کرنا چاہئے۔ خاص طور پر اگر مریض کا
درجہ حرارت  ایف . ٩٩ ہو جائے تو ہر قسم کی محنت اور چلنے پھرنے سے گریز کرنا ضروری ہے۔

غذا

مریض کو زود ہضم اور قوت بخش غذا ک کا ملنا ضروری ہے۔ تا کہ مریض کو قوت کم نہ ہو۔ دودھ، انڈے، مکھن، تازہ پھل کی غذا میں ضرور شامل ہونے چاہیئں۔ مر یض کا کمرہ بالکل علٰحیدہ ہونا چاہئے۔
جس میں بچوں کو ہرگز نہ آنے دیا جائے۔

ضروری احتیاط

عام طور پر اس مرض کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ مرض قریب قریب لا علاج ہو جاتاہے۔ ابتدائی درجہ میں جو مرض کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں مریض ان کی طرف لا پرواہ رہتا ہے اور
مرض آہستہ آہستہ جڑ پکڑتا رہتا ہے۔ شام کے وقت ہلکا بخار ہوجانا، بھوک کا نہ لگنا اور وزن میں کمی ہونا ایسی علامتیں ہیں کہ ان کی طرف سے کھبی غافل نہیں ہونا چا ہئے اور اس دوران میں حفظ ماتقدم کے
طور پر اوپر لکھی ہوئی ہدایت پر فوراََ عمل کرنا چاہئے۔

دق کے مریض کی تیمارداری کیسے کرنی چاہئے

١۔ مریض کی دیکھ بھال کرنے والے کے ہاتھ ہمیشہ صاف رہنے چاہئیں۔
٢۔ بغیر ہاتھ دھوئے کھبی کھانا نہیں چا ہئے۔
٣۔ مریض کے استعمال شدہ چمچے، پیالیاں، اور پلیٹ گرم پانی میں ابال لی جائیں اور ان کو صابن سے دھو یا جائے۔
٤۔ مریض کے آگے کا بچا ہوا کھانا ضائع کر دینا چاہئے۔
٥۔ مریض کے کمرہ کو گیلے کپڑے سے جھاڑا جائے تا کہ وہاں کی گردنہ اُڑنے پائے کیونکہ اس گرد میں بیماری کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔
٦۔ مریض کے کمرے میں کسی دوسرے شخص کو نہ سونے دیا جائے۔
٧۔ دن رات کمرے کی کھڑکیاں اور روشن دان کھلے رکھے جائیں۔
٨۔ مریض کو تھوکھنے کے لئے کاغذ کی تھیلیاں دو تاکہ وہ بعد میں جلادی جائیں۔
٩۔ مریض کو بلغم نہ نگلنے دیا جائے۔ بلغم نگلنے سے بیماری تمام جسم میں سرایت کر جاتی ہے اور صحت کی امید منقطع ہوجاتی ہے۔
١٠۔ کھانستے وقت مریض سے کہو کہ وہ رومال منہ پر رکھ کر کھانسے۔
١١۔ مریض کا کمرہ خالی ہونے پر کمرہ کو باقاعدہ صاف کرایا جائے اور کئی دن تک کمرہ خالی اور کھلا رکھنا چاہئے۔ تا کہ اس میں دھوپ اور ہوا خوب آسکے۔۔
١٢۔ مریض کے بستر کی چیزوں کو پانی میں خوب اُبالا جائے اور پھر کئی روز تک دھوپ اور ہوا میں ڈال دیا جائے۔





















شادی شدہ عورتوؐں کا جلق یا ادھوری مباشرت
ایسے مرد اور عورتیں جو پوری طرح سے صحبت یا ہمبستری نہیں کرتے وہ اپنا بہت نقصان کر رہے ہیں پوری طرح لطف اندوز نہ ہونے سے انسان اپنی قوت کھو بیھٹتے ہیں

بعض میاں بیوی ایسا کرتے ہیں کہ حمل نہ ہو لیکن انہیں نقصان کا نہیں پتا ہوتا۔ آج میں آپ کو اس کے بارے میں آگا کروں گا۔ پورا آرٹیکل ضرور پڑھیں۔
Shadi Shuda Auraton Ka Jalaq Ya Adhuri Mubashrat | Sexual Problems of women in Urdu, Sexual Problems of Women - Their Treatment, female impotence causes, female sexual arousal disorder, female sexual dysfunction treatment, Unmarried or incomplete intercourse with married women.


اس سرخی سے ہمارا مطلب مردوعورت کا ایسا ملاپ ہے جو طرفین کے انزال یعنی منی خارج ہونے سے پہلے ہی خت ہو جائے۔ اور وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ حمل قرار نہ پائے۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جب مردوعورت قبل انزال ہی الگ ہوجاتے ہیں یا فرنچ لیدر، نرودھ یا چیک پیسری( رحم کا منہ بند کردینے والی ٹوپی) وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہےتو اس کو بھی ادھوری
مبشرت یا شادی شدہ جوڑے کا جلق کہا جاسکتا ہے۔ مکمل مباشرت میں جب طرفین کو انزال ہوتاہے تو دونوں کے اخراج کا باہمی تبادلہ ہوتا ہے۔ اس تبادلے میں مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے کچھ نہ
کچھ حاصل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے اعضا کی حفاظت اور خواہش کی تکمیل کے لیے لازمی ہے۔

خلاف فطرت اس ادھوری مباشرت سے طرفین کے دماغ اور آلات تناسل پر نہایت برا اثر پڑتا ہے اس کے پر غلاف مکمل مباشرت سے جو سکون قلب، خوشی و راحت ملتی ہے وہ اس سے نہ صرف
محروم رہ جاتے ہیں بلکہ امرض کا شکار بھی بن سکتے ہیں۔
ایسا عمل کر نے والوں میں دیکھا گیا ہے عورت کے رحم میں اینٹھن پیدا ہونے لگتی ہے۔ اندام نہانی و رحم کی جھلیاں کشک ہونے لگتی ہیں۔ لیکوریا کا مرض لاحق ہو جاتا ہے اور بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت
بھی ختم ہو سکتی ہے۔
مرد کا عضو تناسل ست اور کمزور ہوجاتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ خود بھی ذہنی انتشار اور ضعف اعصاب کا شکار ہوجاتا ہے۔
اگر استقرار حمل سے بچنا ضروری ہو تو ہو میو پیتھی کی بےضرردواؤں سے اس مقصد کو پورا کیا جاسکتا ہے۔


Shadi Shuda Auraton Ka Jalaq Ya Adhuri Mubashrat | Sexual Problems of women in Urdu, Sexual Problems of Women - Their Treatment, female impotence causes, female sexual arousal disorder, female sexual dysfunction treatment, Unmarried or incomplete intercourse with married women.
ایسے مرد اور خواتین جن کے چہرے پر کیل مہاس اور داغ دھبے ہیں اور وہ بہت عرصے سے نہیں جا رہے تو ہم اس کا حل لے کر حاضر ہو ئے ہیں۔ ہم جو فارمولا بتایئں گے اس
سے آپ کے پُرانے سے پُرانے دانے اور داغ دھبے چلے جا ہیں گے بس کچھ باتیں ذہین نشین کرلیں۔
Chehre Ke Keel Muhase or Daag Dhabe Door Karne Ke Liye Behtareen ilaj - Best Beauty Tips for Skincare in Urdu

(Why nails come out)سب سے پہلی بات کے کیل کیوں نکلتے ہیں
انسانی جلد میں بے شمار باریک مسام ہوتے ہیں۔ چہرے گردن اور کندھوں کے اردگرد مساموں کے نیچے چکنائی پیداکرتے ہیں جو ان مساموں میں جمع ہو گر ٹھوس شکل اختیار کرلیتی ہے۔
دھوپ،ہوا اور گردوغبار کے اثر سے اس ٹھوس چکنائی کا بیرونی سرا ایک سخت اور سیاہ چھلکے کی صورت اختیار کرجاتا ہے اور اِس طرح کیل نمو دار ہوجاتے ہیں۔ اگر اِن کو کھنچ کر نکلا جائے
تو نہ صرف زخم بن جاتے ہیں بلکہ داغ اور دھبے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

سب سے پہلے جو باتیں ضروری ہیں ان کو ذہین نشین کرلیں۔
١- علاج کے دوران کوئی اور چیز نہ تو لگانی ہے اور نہ ہی کھانی ہے ورنہ آپ کو فرق نہیں پڑے گا پھر آپ کہیں گے کہ یہ سب جھوٹ ہے۔
٢- جو فارمولا ہم نے آپ کو بتانا ہے وہ پورا ایک مہینہ لگانا ہے پھر فرق آپ کو محسوس ہو گا۔
٣- اہم بات جب تک آپ کے مکمل کیل مہاس اور داغ دھبے چلیں نہ جاہیں تو آپ نے استعمال کرتے رہنا ہے۔


کچھ دوا آپ کو لگانے کے لیے دی جائے گی اور کھانے کیلے ان دوا کے نام اور استعمال کسی طرح کرنا ہیں وہ طریقہ درج ذیل ہے۔

1000 CC PLUS
  کیلشم کی گولیاں روزانہ صبح خالی معدے کھانی ہیں ایک گلاس پانی میں پورا ایک مہینہ


VOXIN 100 ML
پہلی خوراک صبح شام کھانا کھانے کے بعد دوسری خوراک ایک گولی روزانہ


Seproderm Ointment
یہ ایک ملم ہے۔ اِس کو بھی روزانہ شام کو نیم گرم پانی سے چہرے کو دھو کر اُنگلی کی مدد سے پورے چہرے پر لگاہیں۔ اور صبح کسی کپڑے سے اتار لیں اور چہرے کو دھولیں۔ اِس کی وجہ سے آپ کے
چہرے کے مکمل کیل اور داغ دھبے ختم ہوجاہیں گے۔

:پرہیز
علاج کے دوران کٹھی میٹھی اور ترشی اشیا سے پرہیز کریں۔

























Chehre Ke Kil Or Daag Dhabe Door Karne Ke Leye Behtareen Tips Aur Totkey in Urdu/ Hindi,
Chehre Ke Keel Muhase or Daag Dhabe Door Karne Ke Liye Behtareen ilaj - Best Beauty Tips for Skincare in Urdu, acne pimples treatment in Urdu, the difference between acne and pimples, home remedies for clear skin overnight.
عورت پر قدرت حاصل کرنے کے لیے ایک قرآنی عمل
اگر کوئی عورت یا آپ کی بیوی آپ کے کنٹرول سے باہر اور وہ آپ کے قابو نہیں آ رہی تو اس کو رائے رست پر لانے کیلے ایک بہترین قرآنی عمل ہے جس پر آپ اپنی قدرت حاصل کر سکتے ہیں صرف ایک قرآنی آیت پڑ کریہ ایک بہترین عمل ۔   ہے
Aurat Par Qudrat Hasal Karne Ke Liye Ak Qurani Amal | Biwi Ko Kabu Karne Ka Wazifa

از- اعمال قرآنی تصنیف حضرت تھانوی ؒ ۔۔ حضرت امام حسن بصری ؒ سے کسی نے ذکر کیا کہ فلاں شخص نے نکاح کیا مگر عورت پر قادر نہیں ہو سکا تو آپ نے دو بیضہ مرٖغ(انڈے) جوش دئیے ہوئے منگوائے اور
ان کا چھلکا اتار کر ایک پر آیت لکھی۔
Aurat-Par-Qudrat-Hasal-Karne-Ki-Dua-Biwi-Ko-Kabu-Karne-Ka-Wazifa

قرآن و حدیث کی برکات و اثرات اپنی جگہ پر مُسلم ہیں مگر ان سے فائدہ حاصل کرنے کےلیے ان پر یقین کامل ضروری ہے۔ اگر اس میں کمی ہوگی تو پھر کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
ایک محدث کے صاحبزادے نے ایک حدیث میں پڑھا کہ کھبنی کا عرق آنکھ میں ڈالنے سے آنکھ کی تکلیف دور ہوجاتی ہے۔ اُن کے غلام کی آنکھ میں کچھ تکلیف تھی پس بطور آزمائش
ٖغلام کی آنکھ میں کھبنی کا عرق ڈالا تو اُس کی تکلیف اور بڑ گی۔ ان صاحبزادے نے اپنے والد ( محدث صاحب) سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کس نیت سے عرق ڈالا تھا۔
جواب دیا کہ حدیث کی بات کو آزمانے کے لیے۔ تو ؐمحدث صاحب نےفرمایا کہ حضورﷺ کی حدیث پر تجھ کو اعتماد نہ تھا یہ اس کی سزا ہے۔ چنایچہ صاحبزادے نے توبہ کی اور صیح نیت کے ساتھ پھر جو عرق
ڈالا تو فائدہ ہوا۔


قوت باہ پر خیالات کا اثر


بعض لوگ ادائل عمر کی غلط کاریوں کی بناء پر اپنے آپ کو فریضہ زوجیت کی ادائیگی کے قابل نہیں سمجھتے اور شادی کرنے سے گریز کرتے ہیں مگر گھر والوں کے اصرار پر شادی کرنے کیلے رضا مند
ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی کمزوری کے علاج کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ معالض بھی ان کی اس ذہنی اور نفسیاتی یماری کو نہ سمجھ کر گرم اور مہیج دوایئں اور طلا استعمال کراکے ان کو اطمینان دلا دیتے ہیں کے
پس پہنچتے ہیں تو یہ ذران کو لے ڈوبتا ہے۔ حالانکہ وہ وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ دراصل یہ اس قوت خیال کا اثر ہوتا ہے۔
جو ان کے دماغ پر مسلط ہو کر ان کی اہلیت کو سلب کردیتا ہے اور مایوسی اری کر دیتا ہے اسیے لوگوں کو اپنے بُرے خیالات پر قابو حاصل کر لینا چاہیے اور اس مرحلہ پر پسینے پسینے ہوجاتے ہیں اور دُلہن
کےکمرہ سے نکل آنے کے بجائے ہمت قائم رکھنا چاہیے۔ اور اُنس پیدا کرنے کی باتوں میں مشغول ہوجانا یاہیے۔ اپنی نئی شیک حیات سے آئندہ زندگی کو گزارنے کیلے اس کی عادات و مرگوبات معلوم کرنے
اور اپنی پسندو نا پسند چیزوں سے اس کو واقف کرانے کی باتوں میں وقت گزار دینا چاہیے۔ اس طرح ہمت کے ساتھ جمے رہیں تو وہ قوت جو عارضی طور پر ڈرے مغلوب ہو گی تھی۔ پھر غالب آجاتی ہے اور مراد بر آتی ہے۔
بس اس کا خیال رہے کہ چہرے بشرے سے اپنی ناکامی کا اظہار ذرا بھی نہ ہونے پائے۔ اگلے دن کسی طبیب سے مشورہ کرلیں انشاء اللہ قوت بحال ہوجائے گی۔
ماہرین علم صحت کے مطابق کھانا پکانے کے جو طریقے ہیں وہ درج ذیل ہیں
ماہرین علم صحت کے مطابق کھانا پکانے کے طریقے


ہمارے ہاں جس طریقے سے کھانا پکایا جاتا ہے اس سے اکثر وٹامن اور دیگر صحت بخش اجزا ضائع ہو جاتے ہیں۔ کھانا ہمیشہ دھیمی آنچ پر پکانا چایئے
تیز آنچ پر پکی ہوئی چیز کی غذائیت میں فرق آجاتا ہے۔
ساگ یا چاول ابال کر ان کا پانی نہ پھینکئے۔ اتنا پانی ڈالنے کی پھینکنے کی ضرورت نہ آئے۔ گوشت پکانے کا صیح طریقہ ہے کہ اس ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیجئے۔ اس طرح اس کے پاہر البیومن جم کا اس کے گرد ایک غلاف
سا بنا دے گا۔ اور اس کے اندر کے پرٹین اور نمک وغیرہ پانی میں گھل کر باہر نکلنے نہ پا ئیں گے۔
Mehreen Ilam Ke Mutabiq Khana Pakane Ke Tarike - Recipes - Cooking Methods in Urdu

بھوننے سے غذا دیر ہضم ہوجاتی ہے اور اس کے وٹامن وغیرہ بھی جل جاتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکے غذا کو بھوننے نہیں۔ بھاپ سے پکانا سب سے اچھا ہے۔
:فی کس یومیہ خوراک
ماہرین علم صحت نے اوسط درجے کے آدمی کے لیے روزانہ خوراک کے مختلف مینو رکئے ہیں۔ ہمارے ملک کے مندرجہ ذیل مینو بہت مناسب ہے۔
آٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٦چھٹانک
چاول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٤چھٹانک
گوشت۔۔۔۔۔۔۔۔٣چھٹانک
دودھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔٨چھٹانک
سبزی۔۔۔۔۔۔۔۔٤چھٹانک
دال۔۔۔۔۔۔۔۔۔١چھٹانک
گھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔١.٥چھٹانک

اس کے علاوہ تازہ پھل جس قدر کھا سکیں کھائیں جو چاول کھانے کے عادی نہیں ہیں۔ وہ چاول کے بجائے آٹے کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اور جو صرف چاول کھاتے ہیں وہ آٹے کے
بجائے اسی مقدار میں یا ذرا زیادہ چاول استعمال کر سکتے ہیں۔ بچوں کے لیے دودھ پینا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے غذائی اجزا
تقریباََ اتنی ہی مقدارمیں ہوتے ہیں جتنی مقدار میں انہیں کسی مکمل خوراک میں ہونا چاہئے۔

مفیدمشربات

مشروبات کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم میں الکحل نہیں پائی جاتی۔ جیسے سوڈا، شربت، لسی، سکخین، دودھ، چائے، قہوہ، کوکو وغیرہ، دوسری قسم میں الکحل ان کا اجزا ہے۔

سوڈاواٹر

یہ ضروری نہیں کہ اس قسم کہ پانی میں سوڈا ضرور موجود ہو۔ یہ معمولی پانی ہوتا ہے۔ جس میں کاربانک ایسڈ شامل کردیا جاتاہے اس کے علاوہ اس میں کچھ نمک
بھی ہوتے ہیں۔ سوڈا کے بعض مشروبات میں کسی پھل کا جوس اور ایسنس بھی ملایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سوڈاواٹر میں کسی پھل کا جوس بھی شامل ہوتو اس میں وٹامن اور معدنی نمک بھی موجود ہوں گے
جو اس پھل میں پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ غذائی اعتبار سے صحت کیلے مفید ہوا۔

شربت

سوڈے کے علاوہ شربت بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ چونکہ ان میں کھانڈ کے ساتھ پھلوں کارس بھی ہوتا ہے اس لئے ان میں بھی کچھ غذائیت ہوتی ہے خصوصاََ گرمی کے موسم میں
ان کا استعمال فرخت بخشتا ہے۔

سکنجبین

تازہ لیموں کا رس اور نمک پانی میں ملانے سے مشروب بنتا ہے اسے سکنجبین کہتے ہیں۔ یہ بہت فرخت افزا اور مفید چیز ہے۔

چائے

چائے میں کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں۔ ٹینن اور تھین، ٹینن ایک ایسا کمیائی مادہ ہے جو خشکی اور قبض پیدا کرتا ہے۔ یہ پانی میں آہستہ آہستہ حل ہوتا ہے۔ اگر چائے کی پتی کو زیادہ دیر تک
پانی جوش دیا جائے تو پانی میں ٹینن بہت مقدار میں حل ہو جاتا ہے۔ اس لئے چائے کو ذیادہ دیر تک نہیں اُبالنا چاہئے۔ ٹینن معدے کے استر کی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور غذا کے پروٹین کوسخت
بناتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ قابل ہضم ہوجاتی ہے۔

تھین

اعصاب کو تحریک دیتا ہے اور چائے کا محرک ہونا اس کی وجہ سے ہے۔ اس کے علاوہ چائے میں ایک قسم کا تیل بھی ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے مہک پیدا ہوجاتی ہے۔
بلحاظ غذاچائے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ چونک اعصاب کیلے محرک ہے جس کی وجہ سے تھکان کا احساس کم ہوجاتا ہے اور نیند بھی نہیں آتی۔ اس لئے دماغی کام کرنے والے اسے اچھا سمجھتے ہیں
لیکن اس کے استعمال میںاعتدال سے کام لینا چاہئے دن بھر میں زیادہ سے زیادہ دو تین پیالے اور وہ بھی تازہ۔

کافی

کافی کے بھی دو بڑے اجزا ہیں۔ کیفین اور ٹینن۔  کیفین بھی ٹینن سے ملتا ایک مادہ ہے لکین یہ اتنا نقصان دہ نہیں جتنا کہ چائے۔ یہ چائے سےزیادہ محرک ہے اسے کثرت سے
استعمال کرنے سے اعصاب دل اور آلات انہضام کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہم محض چائے کافی کے سہارے زندگی کی دوڑدھوپ میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس لئے ان چیزون کے استعمال
میں اعتدال سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔

کوکو

اس میں پرٹین ١٦ ٖفیصد ہوتا ہے۔ اس لئے یہ ایک غذائی حثییت رکھتا ہے اس کے علاوہ اس میں ایک ماد تھیو برومن بھی ہوتا ہے جو اعصاب کو تحرک اور تقویت دیتا ہے۔
یہ بھی چونکہ محرک ہے اس لیے اعتدال سے استعمال کرنا چاہئے۔

لسی

اس کا گرمی کے موسم میں ہارے ملک میں بہت رواج ہے۔ یہ بڑا فرخت بخش اور صحت بخش مشروب ہے۔ اس سے طاقت پیدا ہوتی ہے اور درازی عمر کا باعث ہوتی ہے لیکن چونکہ
طبیعت میں سستی پیدا کرتی ہے اور نیند لاتی ہے۔ اس لئے دماغی کام کرنے والے اسے پسند نہیں کرتے۔

دودھ

صرف یہی ایک ایسی چیز ہے جسے ایک حدتک مکمل خوراک کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام اجزا پائے جاتے ہیں جو جسمانی نشونما کے لیے ضروری ہیں۔ بیماری کی حالت میں مریض
کے لئے اس سے بہتر اور کوئی غذا نہیں۔
کریم کے علاوہ دودھ میں پروٹین، معدنی نمک اور پانی بھی شامل ہوتا ہے۔ اس کا ایک کیمیائی مادہ کیسین ہے جو کہ بہت مقوی سمجھا جاتا ہے مکھن بھی دودھ سے نکلتا ہے۔ اس میں ٨٠
فیصدی چکنائی ١ فیصدی پروٹین ایک فیصدی نمک اور باقی ١٣ فیصدی پانی ہوتا ہے۔ مکھن تمام چکنائیوں میں سب سے زیادہ ذود ہضم ہے۔ اس لئے چھوٹے بچوں اور مریضوں کے لئے بہت اچھی خوراک ہے۔
دہی اور پنیر بھی دودھ ہی کی مصنوعات ہیں۔ پینرمیں چکنائی اور پروٹین زیادہ ہوتے ہیں۔ غذائیت کے اعتبار سے یہ گوشت کا بدل سمجھا جاتا ہے لیکن ذود ہضم ہے۔ اسے چبا چبا کر کھانا چاہئے۔





Khana Pakane Ke Tarike
Cooking Methods
types of cooking methods
Pakistani cooking Recipes in Urdu
Science Food and Health
Mehreen Science
Food and Health Science
casein side effects
casein in milk

  حمل کے دوران خون کی کمی پوری کرنے کیلے بہترین فارمولا
اس سے حملہ خواتین کی خون کی جو کمی ہوتی ہے وہ پوری ہو جاہے گی
Hamal Ke Dauran Khoon Ki Kami Ko Poora Karne Ke Liye Behtareen Formula

جو اجزء استعمال کرنے ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں۔
:اجزاء
آم ایک عدد  ۔۔۔       آڑو ایک عدد ۔۔۔۔        چینی حسبِ ضرورت ۔۔۔    دودھ آدھا لیڑ

:ترکیب استعمال
تمام اجزء کو بلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کرلیں اور روزانہ صبح ایک گلاس پیئں۔ موسم گرم ہوتو برف ڈال لیں یا فریج میں ٹھنڈا کر کے پی سکتی ہیں۔
:فائدہ
اس کے استعمال سے نہ صرف خون کی کمی پوری ہو گی بلکہ بچہ بھی صحت مند پیدا ہو گا۔










Hamal Ke Dauran Khoon Ki Kami Ko Poora Karne Ke liye
Behtareen Formula.
Doran Hamal Khoon Ki Kami, Hamla Khawateen Mein Khoon Ki Kami Ka Ilaj / Pregnant Wife, Doran Hamal khoon ki kami ka ilaj, Khoon Ki Kami Ka Ilaj In Urdu, Hamla Aurat ke Liye Behtareen Tips, Hamla Aurat k Masail Or Hal, Pregnancy Ke Doran Khoon Ki Kami Ko Door Karne Ke Liye Best Treatment.

The best formula for anemia during pregnancy

اسلام میں جلق یعنی ہاتھ سے منی نکا لنے کی ممانعت
مُشت زنی کیا ہے اسلام میں جلق یعنی مُشت زنی  کی روق تھام ، اس کے نقصان کیا ہیں اس سے بیچنے کا طریقہ اور اس کا علاج
مشت زنی کا علاج۔ مشت زنی کا اسلام میں کیا حکم ہے۔ مشت زنی سے بیچنے کا بہترین وظیفہ۔مشت زنی کا عذاب۔ شت زنی کے نقصانات

Islam Main Musht Zani Ke Barey Main Kia Bataya Gaya | Musht Zani Ke Nuqsan Kia Hain in Urdu

تعریف مرض:
یہ ایک غیر طبعی فریق ہے جو فریق ثانی کی غیر موجودگی میں جلق غیر فطری طریقوں سے اعضاے تناسل میں مالش کر کے انتشار اورانزال پیدا کرتا ہے۔عام طور پر جلق اس عمل میں اپنے ہاتھ سے کام کرتا ہے

اس لیے اسے مشت زنی کہتے ہیں جو اپنے ہاتھوں سے اپنے نفس کو غیر عملی طریقہ سے استعمال کرتے ہیں۔
یہ مرض مرد اور عورتوں میں پایا جاتا ہے۔ اگر ذہین میں گندے خیالات ہوں اس کے علاوہ گندی فلمیں، گندی باتیں، گندے لڑیچر، ہوٹ سیکس موی دیکھنے سے بھی اس جیسے برے خیالات آتے ہیں
اور مرد اور عورت اس جیسا کام سر انجام دیتے ہیں جنہیں جلق یعنی مشت زنی کہتے ہیں۔

جلق کی علامات: اس مرض کی علامات یہ ہے کہ مریض اس قدر کمزور اور پشیمان ہوتا ہے کہ اس کے علاج کے لیے کسی ماہر ڈاکٹر یا حکیم طب کے پاس نہیں جاتا بلکہ بازاری کتابوں اور رسالوں وغیرہ یا خود یا
کسی ایسے انجان شخص سے دوا کرواتا ہے جس سے نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے مشت زنی کا اثر انسان کام میں دلچسپی نہیں رکھتا اور جلدی کام سے آوازار ہو جاتا ہے۔
دماغی اور محنت کا کام کرنے میں بھی جلدی تھک جاتا ہے اور اس کی آنکھوں کے اردگرد سیاہ رنگ کے دائر بن جاتا ہے۔ہاتھ ، پاؤں اور کمر کام کرنے میں مدد نہیں دیتے۔وہم شک اور سر درد رہتا ہے۔
مشت زنی کی وجوہات: مُشت زنی جیسے کام پہ لگنے کے لیے ایک بہت بڑی وجوہات ہوتی ہیں، وقت پہ شادی نہ کرنا۔ بیوی کا جلدی فوت ہوجانا۔ تعلیم کے لیے جلد شادی نہ کرنا۔
بری صحبت، گندے خیالات، گاڑی اور گھڑ سواری کرنا،بواسیر، قوت افضا ہونا، قبض کا ہونا، مٹی کھانے سے پیٹ کے کیڑے جس سے عضو تناسل میں خارش کی وجہ سے عادت بھی پائی جاتی ہے
اور کم عمر سے ہی تواجہ نہ دینے سے بھی یہ کام سر انجام دیا جاتا ہے
اس کے علاوہ عورتوں میں عدم جنسی تسکین سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے۔مشت زنی کی وجہ سے جسم کے اعضا کمزور نفس کا ڈھیلا پن پھٹوں کی کمزوری جیسی بیماریاں لا حق ہوتی ہیں۔

مشت زنی کا علاج: برُے خیالات سے دور رہنا چاہیے۔ اگر شادی کی عمر ہو گی ہے تو شادی کر لینے چاہیے۔کٹھی اور مصالحہ ادر اشیاء سے پرہیز کریں اپنے خیالات اور ذہین کو پاک اور صاف رکھیں۔
روزانہ نہانے، ٹھنڈے پانی سے اپنے نفس کو نہ دھویں اور نہ پانی پڑنے دیں۔ سیر اور ورزاش اور اچھے خیالات کا عادی بنیں اور ان میں مصروف رہنے کی کوشش کریں۔
معالج کے مشورہ سے دوالگا کرآبلہ اٹھایا جاتا ہے تاکہ مریض اس جیسی حرکت سے دور رہے اور نہ ایسی ھرکت کر سکے۔
لسی، دودھ، گنے کا جوس، ٹھنڈی چیزیں استعمال کریں۔ اگر ایسی مرض میں مبتلا ہیں تو کسی اچھے ڈاکٹر یا حکیم طب سے مشورہ کر لیں۔
تخم کا ہو٢ماشہ، تخم خیار ٦ ماشہ، تخم خرفہ ٦ ماشہ، دھنیاں ٢ ماشہ پیس کر شیرہ نکالیں اور شربت نیلو فر کے ساتھ استعمال کریں۔ اس کو گرمیوں میں استعمال کریں۔

اسلام میں جلق یعنی ہاتھ سے منی نکا لنے کی ممانعت

عمدۃالاحکام میں حضرت جابررضی اللہ سے یہ روایت نقل کی گی ہے کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ سب کے ساتھ کھانے میں شفا ہے اور ارشاد ہے کہ بہت بُرے ہیں
وہ لوگ جو تنہا کھائیں اور اپنی لونڈیوں کو ماریں اور اپنی بخشس کو بند کر دیں اور نکاح کریں ہاتھ سے(یعنی جلو لگائیں)۔
ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ کی مجلس سے سب لوگ چلے گے ایک جوان بیٹھا رہا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کو کچھ ضرورت ہے؟ اُس نے عرض کیا کہ میں ایک مسلہ پوچھنا
چاہتا ہوں پہلے تو لوگوں کی شرم ما نع تھی اور اب آپ کی ہیبت و تعظیم مجھ کو کہنے نہیں دیتی۔ آپ نے فرمایا کہ عالم کا درجہ باپ کا سا ہو تا ہے جوبات تو باپ سے کہہ دیتا ہے وہ مجھ سے بھی کہہ دے۔

اس نے عرض کیا میں جوان ہوں اور بیوی نہیں رکھتا ہوں اکثر مٹھولوں سے (جلق) قضا حاجت کر لیتا ہوں۔ اس میں کچھ گناہ ہوتا ہے یا نہیں
۔حضرت ابن عباس رضی اللہ نےاُس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور فرمایا چھی چھی لونڈی سے نکاح کر لینا تیری اس حرکت سے بہتر ہے۔
مشت زنی حصول ثہوت کے لیے حرام ہے اور موجب لعنت۔

Islam Main Musht Zani Ke Barey Main Kia Bataya Gaya | Musht Zani Ke Nuqsan Kia Hain in Urdu
Musht Zani Faida Mand Ya Nuqsan Dehe
Jalaq Yani Hath Se Mani Nikalne Ki Mamanat Or Gunah
Muth Marne Ke Side Effect | Hand Practice, Muth Marnay Say Honay Wali Kamzori Ka Nuskha
Masterbation in Men Women Muth Marna & Hand Practice and Musht Zani ka ilaj