تپ دق كیا ہے؟ اوراس کی علامات کون کون سی ہیں، اور اس کا علاج کسی طرح کیا جاتا ہے اور اس کا علاج نہ کروانے سے کیا نقصان ہے تپ دق کے بارے میں انسان کسی طرح جان سکتا ہے کہ مجھے ہے۔ اس کا پرہیز اور علاج۔ دوستو اس آرٹیکل میں مکمل آگاہی دی گی ہے۔
:Trbeerculosis تپ دق
یہ ایک نہایت خوفناک مرض ہے۔ اس کا سبب ایک خاص قسم کےجراثیم ہوتے ہیں۔ جوٹیوبرکل باسیلی کہلاتے ہیں۔ یہ جراثیم جسم کے کسی حصے پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔
لیکن ان کاحملہ بالعموم پیپھڑوں پر ہوتا ہے اور اس حالت میں اس مرض کوسل یا کنوسمپٹیش کہتے ہیں۔
جب تپ دق کا مریض کسی جگہ پر کھانستا ہےتو ہوا میں تپ دق کے جراثیم شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی ہو میں تندرست آدمی کے سانس لینے سے یہی جراثیم اس کے پیپھڑوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔
اس تپ دق پیداکردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب تپ دق کا مریض زمین پر بلغم وغیرہ تھوکتا ہے تو یہ بلغم خشک ہوجاتا ہے اور اس کے جراثیم ریت میں مل کر ہوا میں اُڑنے لگتے ہیں۔ گردو غبار کی جگہ میں
سانس لینے سے بھی تپ دق کے جراثیم جسم میں شامل ہوجاتے ہیں۔
یہ خیال صحیح نہیں ہے تپ دق ایک خاندانی مرض ہے لیکن البتہ یہ ضروری ہے کہ جن بچوں کے والدین تپ دق کے مرض میں مبتلا ہوں وہ پیدائشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے دوسرے
عام تندرست بچوں کی نسبت اس مرض کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔
:علامات
اس مرض کی علامتیں بہت آہستہ آہستہ نمودار ہوتی ہے اور مرض کا حملہ ہونے کے کئی کئی مہینے بعد تک مریض کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ بیمار ہے۔ سب سے پہلے مریض کو خشک کھانسی ہوتی ہے لیکن
کچھ عرصہ بعد زردرنگ کا تھوڑا بلغم بھی خارج ہونے لگتا ہے اور بعض اوقات اس بلغم کے ساتھ خفیف مقدار میں خون بھی شامل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ مریض ہر وقت تھکان محسوس کرتا ہے۔ شام کے وقت مریض کا ہلکا ہلکا بخار ہونے لگتا ہے۔ بھوک لگنا بند ہوجاتی ہے اور وزن بتدریج کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص علامت یہ بھی ہے
کہ کرہ مریض کے کپڑے اور بستر کی چادر تر ہوجاتی ہے۔
وہ اسباب جو اس مرض کے پیدا کرنے میں ممد ہوتے ہیں
١۔ بہت سے آدمیوں کا ایک مکان میں رہنا۔
٢۔ ناقص ہوا۔
٣۔ تنگ و تاریک اور مرطون مکان کی رہائش۔
٤۔ ناقص غذا۔
٥۔ غذاکا کم مقدار میں ملنا۔
٦َ۔ سینہ کا کمزور ہونا۔
٧۔ ایسے ماحول میں کام کرنا جہاں گردو غبار ہو۔
٨۔ کام کی زیادتی، پریشانی اور تفکرات۔
٩۔ متعدی بیماری کے بعد کی کمزوری۔
١٠۔ نشہ آور اشیاء کا استعمال۔
١١۔ چھوڑی عمر میں شاددی کا ہونا۔
١٢۔ غربت اور جہالت۔
یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کر لیں کہ تپ دق کا مرض صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ تپ دق کے جراثیم جسم میں داخل ہوجائیں۔
اوپر بیان کئے ہو ئے اسباب ہماری قدرتی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ جس سے ہم پر مرض آسانی سے غلبہ پا جاتا ہے۔
زندگی میں ہزاروں مرتبہ ہوا میں سانس لیتے ہیں۔ جس میں تپ دق کے جراثیم شامل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم کبھی بیمار نہیں ہوتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جسم تندرست جسم میں اس مقدار
مدافعت کی قوت ہوتی ہے کہ تپ دق کے یہ جراثیم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، لیکن اس کے بر عکس کمزور جسم والے لوگوں میں چونکہ یہ قوت مدافعت بہت کم ہوتی ہے۔ اس لئے وہ آسانی سے اس مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اس لئے یہ نہاہت بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے جسم میں قوت مدافعت بڑھائیں۔
پرہیز اور علاج
١۔ جس جگہ تپ دق کے جراثیم ہوں وہاں نہ جاؤ۔٢۔ دھوپ اور تازہ ہوا میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارو۔
٣۔ زود ہضم اور مقوی غذا کھاؤ۔
٤۔ صحت اور صفائی کے اصولوں پر عمل کرو۔
٥۔ ہر وقت خوش و خرم رہنے کی کوشش کرو۔
٦۔ مرض کی صوت میں فوراََ علاج شروع کرو۔
مندرجہ ذیل بالاہدایات پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف اس موزی مرض کے حملہ سے بچ سکتے ہیں۔ بلکہ اگر خدانخواستہ کسی کو یہ مرض ہو بھی جائے تو مرض کا قلع قمع کرنے کے لیے بھی ان
ہدایات پر عمل کرنا کافی ہے۔
٨۔ تپ دق کے مرض کو خاص طور پر دو باتوں کا خیال رکھنا ںنہایت ضروری ہے۔
آرام
دق کی علامتوں کے ظاہر ہونے پر مریض کے لیے مکمل آرام نہایت ضروری ہے۔ ایسے شخص کو ہر وقت بستر پر لیٹا رہنا چاہئے۔ ہر قسم کے کام سے پرہیز کرنا چاہئے۔ خاص طور پر اگر مریض کادرجہ حرارت ایف . ٩٩ ہو جائے تو ہر قسم کی محنت اور چلنے پھرنے سے گریز کرنا ضروری ہے۔
غذا
مریض کو زود ہضم اور قوت بخش غذا ک کا ملنا ضروری ہے۔ تا کہ مریض کو قوت کم نہ ہو۔ دودھ، انڈے، مکھن، تازہ پھل کی غذا میں ضرور شامل ہونے چاہیئں۔ مر یض کا کمرہ بالکل علٰحیدہ ہونا چاہئے۔جس میں بچوں کو ہرگز نہ آنے دیا جائے۔
ضروری احتیاط
عام طور پر اس مرض کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ مرض قریب قریب لا علاج ہو جاتاہے۔ ابتدائی درجہ میں جو مرض کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں مریض ان کی طرف لا پرواہ رہتا ہے اورمرض آہستہ آہستہ جڑ پکڑتا رہتا ہے۔ شام کے وقت ہلکا بخار ہوجانا، بھوک کا نہ لگنا اور وزن میں کمی ہونا ایسی علامتیں ہیں کہ ان کی طرف سے کھبی غافل نہیں ہونا چا ہئے اور اس دوران میں حفظ ماتقدم کے
طور پر اوپر لکھی ہوئی ہدایت پر فوراََ عمل کرنا چاہئے۔
دق کے مریض کی تیمارداری کیسے کرنی چاہئے
١۔ مریض کی دیکھ بھال کرنے والے کے ہاتھ ہمیشہ صاف رہنے چاہئیں۔٢۔ بغیر ہاتھ دھوئے کھبی کھانا نہیں چا ہئے۔
٣۔ مریض کے استعمال شدہ چمچے، پیالیاں، اور پلیٹ گرم پانی میں ابال لی جائیں اور ان کو صابن سے دھو یا جائے۔
٤۔ مریض کے آگے کا بچا ہوا کھانا ضائع کر دینا چاہئے۔
٥۔ مریض کے کمرہ کو گیلے کپڑے سے جھاڑا جائے تا کہ وہاں کی گردنہ اُڑنے پائے کیونکہ اس گرد میں بیماری کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔
٦۔ مریض کے کمرے میں کسی دوسرے شخص کو نہ سونے دیا جائے۔
٧۔ دن رات کمرے کی کھڑکیاں اور روشن دان کھلے رکھے جائیں۔
٨۔ مریض کو تھوکھنے کے لئے کاغذ کی تھیلیاں دو تاکہ وہ بعد میں جلادی جائیں۔
٩۔ مریض کو بلغم نہ نگلنے دیا جائے۔ بلغم نگلنے سے بیماری تمام جسم میں سرایت کر جاتی ہے اور صحت کی امید منقطع ہوجاتی ہے۔
١٠۔ کھانستے وقت مریض سے کہو کہ وہ رومال منہ پر رکھ کر کھانسے۔
١١۔ مریض کا کمرہ خالی ہونے پر کمرہ کو باقاعدہ صاف کرایا جائے اور کئی دن تک کمرہ خالی اور کھلا رکھنا چاہئے۔ تا کہ اس میں دھوپ اور ہوا خوب آسکے۔۔
١٢۔ مریض کے بستر کی چیزوں کو پانی میں خوب اُبالا جائے اور پھر کئی روز تک دھوپ اور ہوا میں ڈال دیا جائے۔







